دہرادون،9؍فروری(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) اتراکھنڈر کے ضلع چمولی میں گلیشیئر پھٹ پڑنے کے بعد مچی تباہی میں 26 نعشیں برآمد ہوئی ہیں اور 171 افراد ہنوز لاپتہ ہے۔ کئی ایجنسیاں، آبی برقی پراجکٹ کی سرنگ میں پھنسے کم از کم 30 ورکرس کو بچانے متحد ہوگئیں۔
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے دہرادون میں بتایا کہ اموات کی تعداد 26 ہوگئی ہے اور اس میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔
اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد افراد جو تیوان کے ہیڈ رو پراجیکٹ پر کام کررہے تھے لاپتہ ہیں۔
لکھنؤ میں ریلیف کمشنر کے دفتر نے بتایا کہ ریاستی سطح کے ایک ایمرجنسی سنٹر کا آغاز کیا گیا ہے تا کہ لاپتہ افراد کے ارکان خاندان سنٹر سے ربط قائم کرسکیں۔
اتھر اکھنڈ میں اچانک سیلاب گلیشیر کے پھٹ پڑنے اور ایک برفانی تودے کے الک نندا دریا میں گرنے کے باغث آیا ہے۔ تاہم ماہرین اس تباہی کی ٹھیک ٹھیک وجہ معلوم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔
اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد کو تیقن دیا کہ ان کی حکومت ریاست کے عوام کے ساتھ تعاون کرے گی اور انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے کیلئے کام کیا جارہا ہے تا کہ مستقبل میں اس طرح کی تباہی کو ٹالا جاسکے۔
اس واقعہ کے باعث 2 برقی پراجیکٹس، 460 میگاواٹ کا تپوان۔ وشنوگاڈ پراجیکٹ اور 13.2 میگا واٹ کا رشی گنگا، ہیڈل پراجیکٹ کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں مزدور اچانک سیلابی دھاروں کی وجہ سے سرنگوں میں پھنس گئے اور 13 دیہاتوں کا رابطہ منقعطع ہوگیا ہے۔ کئی سڑکوں پر ملبہ اور کیچڑ اور دلدل ہے اور آئی ٹی بی پی، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں حکومتی مشنری سے تال میل کے ساتھ مسلسل راحت وبچاؤ سرگرمی میں مصروف ہیں۔
عہدیداروں نے بتایا کہ 27 افراد کو زندہ برآمد کیا گیا ہے جن میں سے 12 دو چھوٹی سرنگوں سے محفوظ طور پر نکالے گئے ہیں اور 15 افراد کو رشی گنگا سائٹ سے بچایا گیا ہے۔